Skip to main content

شعر  



دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیں
جیسے بچھڑے ہوئے کعبہ میں صنم آتے ہیں

عنوان

فیض احمد فیض کا درد و استعارے سے بھرپور شعر: "دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیں" — ایک فنی و  معنوی تجزیہ جو دل کو چھو جائے


شعر کا پس منظر 


یہ شعر فیض احمد فیض کے مجموعۂ کلام "دستِ صبا"  میں شامل ہے، جو ان کے رومانوی اور انقلابی ذہن کی عکاسی کرتا ہے فیض نے زیادہ تر انقلابی طرز کی شاعری کی آن کی شاعری میں ہم اکثر محبت اور انقلاب کو ایک ساتھ دیکھتے ہیں جیسا کہ ہم انکی یہ نظم پڑھیں  جس میں محبت اور انقلاب دونوں کا ذکر ہے 

"مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ "

فیض کی شاعری میں قید اور جلاوطنی کے دوران جو احساسات تھے ان کاظاہر ہونا دیکھتے ہیں۔


فنی خوبیاں 


اس شعر میں تشبیہ کا استعمال بہت خوبصورتی سے کیا گیا 
ہے "جیسے بچھڑے ہوئے کعبے میں صنم آتے ہیں "
کعبہ اور صنم ان دو کا اکٹھے ذکر ایک گہرا معنی دے رہا ہے

تکرار کیفیت پیدا کی گئی ہے جیسےبھولے ہوئے غم جو دل کو پھر سے گدگدا رہے ہیں 



'پہلے مصرعے میں دل میں یوں تیرے بھولے ہوئے غم آتے ہیں
میں شاعر کہتا ہے کہ جو غم دل سے کچھ مدھم ہو گئے تھے جو کچھ میں بھلا چکا تھا پھر سے یاد آنے لگے ہیں اور دوبارہ اضطراب کی کیفیت پیدا ہو رہی ہے


دوسرے مصرعے میں فیض نے خوبصورتی سے ایک تشبیہ دی ہے "جیسے بچھڑے ہوئے کعبہ میں صنم آتے ہیں"۔
یہ تشبیہ تاریخ اسلام کے دور کو واضح کرتی ہے جب کعبے میں بتوں کو رکھ کر بے حرمتی کی گئی  یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دل میں پہلے سلون اور اطمینان
تھا اب  دوبارہ غم جاگ گئے ہے اور بے بسی کی کیفیت ہے جیسے مقدس جگہ  خراب ہو گئی ہو یعنی بت آگیا ہوں ۔۔۔




اردو شاعری کی تشریح اور معنی

ہماری ویب سائٹ پر آپ کو اردو ادب کے عظیم شعرا جیسے کہ غالبؔ، اقبال، فیض، جون ایلیا، داغ دہلوی کی شاعری کی منفرد اور آسان تشریحات دستیاب ہیں۔ ہر نظم اور غزل کی گہری معنویت اور ادبی پہلوؤں کو سادہ انداز میں بیان کیا گیا ہے تاکہ قارئین اردو شاعری کی روح سے لطف اندوز ہو سکیں۔

اہم موضوعات:

  • اردو کلاسیکل شاعری کی تشریحات
  • فلسفہ خودی اور اقبال کی شاعری
  • فیض احمد فیض کا رومانوی کلام
  • جون ایلیا کی اداس شاعری
  • داغ دہلوی کا رومانوی انداز

مزید اردو ادب اور شاعری کے راز جاننے کے لیے ہماری مزید پوسٹس بھی ضرور پڑھیں۔ ہمیں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں تاکہ ہم آپ کے لیے مزید بہترین مواد پیش کر سکیں۔

Comments

Popular posts from this blog

"عشق کا بانکپن موت کے بعد بھی فیض احمد فیض کا انقلابی شعر"

  شعر کرو کج جبیں پہ سر کفن مرے قاتلوں کو گماں نہ ہو کہ غرور عشق کا بانکپن پس مرگ ہم نے بھلا دیا سیاق و سباق یہ فیض احمد فیض کا شعر ہےعشق پر اردو شاعری کا انقلابی رنگ اور انداز چڑھانا فیض کا کمال ہے۔فیض انقلابی اردو شاعری کرنے میں بہت معروف ہوئے ۔اردو ادب میں بہت سے شعراء نے عشق کو مزاحمت خودداری اور قربانی سے جوڑا ہے کہ عشق صرف اسی کا نام ہے۔فیض کا یہ شعر انقلابی اور علامتی شکل میں ہے۔فیض اپنی شاعری میں محبت اور انقلاب کو ساتھ لے کر چلے۔ فیض کی مشہور نظم "مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ"اس کی بہترین مثال ہے۔ جس کو گایا بھی گایا۔ اس شعر میں شاعر عشق کا غرور مرنے کے بعد بھی قائم رکھنا چاہتا ہے۔اور کہتا ہے کہ میرا کفن اس انداز میں باندھنا کہ میرا بانکپن اور وضع غرور دیکھنے والوں کو نظر آئے۔ مشکل الفاظ کے معنی  کج جبیں/اکڑی ہوئی پیشانی،یعنی غرور کی علامت سر کفن/کفن کا وہ حصہ جو سر پر باندھا جاتا ہے گماں/شک غرورعشق/اپنی محبت پر فخر بانکپن/وضع قطع،سرکشی پس مرگ/موت کے بعد تشریح  فیض احمد فیض کا یہ شعر عشق و محبت کے جذبات سے لبریز ہے جس میں شاعر مرتے دم تک محبوب کے عشق می...

حسن کی بجلی سی شوخی – میر تقی میر کے شعر کی تشریح

  مير تقی میر کا تعارف   میر تقی میر اصل نام میر محمد تقى اردو كے عظیم شاعر تھے۔ میر ان کا تخلص تھا۔ اردو شاعرى ميں مير تقى مير كا مقام بہت اونچا ہے ـ انہیں ناقدین و شعرائے متاخرین نے خدائے سخن کے خطاب سے نوازا۔ وہ اپنے زمانے كے ايكـ منفرد شاعر تھےـ   آپ كے متعلق اردو كے عظیم الشان شاعرمرزا غالب نے لکھا ہے۔r  ریختہ كے تمہی استاد نہیں ہو غالب  کہتے ہیں اگلے زمانے ميں كوئى مير بھی تھا    میر تقی میر، آگرہ میں 1723ء میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام محمد علی تھا لیکن علی متقی کے نام سے مشہور تھے۔ اور درویش گوشہ نشین تھے۔ میر نے ابتدائی تعلیم والد کے دوست سید امان للہ سے حاصل کی مگر مزید تعلیم سے پہلے جب میر ابھی نو برس کے تھے وہ چل بسے تب ان کے بعد ان کے والد نے خود تعلیم و تربیت شروع کی۔ مگر چند ماہ بعد ہی ان کا بھی انتقال ہو گیا۔ یہاں سے میر کی زندگی میں رنج و الم کے طویل باب کی ابتداء ہوئی۔  ان کے سوتیلے بھائی محمد حسن نے اچھا سلوک نہ کیا۔ تلاش معاش کی فکر میں دہلی پہنچے اور ایک نواب کے ہاں ملازم ہو گئے۔ مگر جب نواب موصوف ایک جنگ میں مارے...
 عنوان: میر تقی میر کا فکری و جذباتی کرب: "مغاں مجھ مست بن پھر خندۂ ساغر نہ ہووے گا" کی تشریح Unwan:Roman Urdu  Mir Taqi Mir ka Fikri aur Jazbaati Karb: "Maghan Mujh Mast Ban Phir Khanda-e-Saaghar Na Howe Ga" ki Tashreeh شعر: مغاں مجھ مست بن پھر خندۂ ساغر نہ ہووے گا مئے گلگوں کا شیشہ ہچکیاں لے لے کے رووے گا شاعر: میر تقی میر She’r (Roman Urdu): Maghan mujh mast ban phir khanda-e-saaghar na howe ga Mai-e-gulgoon ka sheesha hichkiyan le le ke roye ga سیاق وسباق  میر تقی میر کا شمار کلاسیکل شعراء  میں ہوتا ہے میر کا دور 18 ویں صدی عیسوی کا دور ہے۔میر تقی میر کی شاعری میں ایک خاص کرب تکلیف اور آزمائشیں  نظر آتی ہیں جو انہوں نے زندگی میں برداشت کیں۔میر تقی میر کی غزلوں کے 6 دیوان ہیں اور رباعیات بھی میر نے لکھی۔ میر کو ان کے دور میں خدائے سخن کا خطاب دیا گیا۔ اس بلاگ میں ہم میر کے شعر  مغاں مجھ مست بن پھر خندۂ ساغر نہ ہووے گا کی تشریح سمجھیں گے۔اس بلاگ میں ہم میر تقی میر کے شعر کا فکری پہلو ،ان کا کرب میر کی ر ندانہ شاعری کا انداز دیکھیں گے۔اردو کی غمگین شاعری م...