Skip to main content

Posts

Showing posts with the label جمال
 میر تقی میر کی اردو شاعری میں محبت اور وفا کا پس منظر اس عہد میں الہی محبت کو کیا ہوا  چھوڑا وفا کو ان نے مروت کو کیا ہوا  عنوان H1 یہ شعر میر تقی میر کا ہے اس بلاگ میں میر تقی میر کے شعر کی آسان تشریح سمجھائی گئی ہے میر باکمال شاعر تھے۔ محبت،وفا،عشق جو تقاضا کرتے ہیں میر اس کو وا ضح کر رہے ہیں۔ محبت،وفا،اور مروت کے فقدان کا اظہار اس شعر میں میر  تقی میر نے کیا ہے سادا اور بااثر انداز میں۔ پس منظر  H2 یہ شعر موجودہ حالات کی نشاندہی کر رہا ہے  جس میں ہر انسان کی مفاد پرستی  خود غرضی ،اور بے مروتی  کا ذکر ہے اس افراتفری کے دور میں انسا ن وفا،محبت ،خلوص،ایثار کو بھول چکا ہے ان جذبات سے انسان کا کوئی تعلق نہیں رہا مروت طبیعت سے کوسوں دور ہے شاعر حیرانی کا اظہار کر رہا ہے کہ اس دور میں محبت تو رہی !نہیں وفا اور محبت کا کیا بنا! معاشرتی زوال کا ذکر میر اس شعر میں کر رہے ہیں۔ فنی خوبیاں H3 اس شعر کا آغاز سوالیہ ہے جیسے شاعر نے کہا کہ مروت اور محبت کو  کیا ہوا ہم شاعر کے الفاظ میں بے بسی اور بے چارگی دیکھتے  ہیں۔ پوری غزل میں کیا ہوا لفظ کی تکر...