شعر: H1 وصل آئینۂ رخاں ہم نفسِ یک دیگر ہیں دعا ہائے سحر گاه سے خواہاں گل و صبح — مرزا غالب مرزا غالب کا تصوراتی عکس — میرٹھ سے دہلی کے پینشن سفر پر ڈارک ٹرین میں بیٹھے شعر: وصل آئینۂ رخاں ہم نفسِ یک دیگر ہیں دعا ہائے سحر گاہ سے خواہاں گل و صبح → اس شعر کی مکمل تشریح نیچے ملاحظہ فرمائیں۔ سیاق و سباقH2 یہ شعر مرزا غالب کے مشہور اشعار میں سے ایک ہے۔غالب کے اردو شعر کی تشریح ایک مشکل امر ہے۔مرزا غالب کی شاعری میں فلسفہ،عشق اور تصوف کا رنگ ملتا ہے۔اردو کلاسیکی شاعری کی خوبیاں تمام غالب کی شاعری ملتی ہیں اور غالب کی غزل ایک اچھوتے مقام کی حامل ہے شاعر اس شعر میں وصل یعنی محبوب سے ملاقات کو ایک نعمت سمجھتا ہے ۔اور محبوب سے ملنا ایک پاکیزہ اور پرمسرت چیز قرار دیتا ہے۔شاعر محبوب کے وصل کو اس طرح پرکشس اور پر اثر کہتا ہے کہ محبوب اور عاشق ایک دوسرے کا عکس دیتے ہیں۔مطلب عاشق میں محبوب کا عکس نظر آتا ہے۔جس طرح آئینے میں عکس نظر آتا ہے۔ مشکل الفاظ کے معنی H3 وصل /ملاقات ،ملاپ ،ملنا آئینہ رخاں/یعنی چہرے کا آئینہ عکس ہم نفس یک دیگر/یک ایک جیسے مطلب ایک دوسرے کی جان جیسے دعا ہائے سحر گاہ/صبح کے ...