شعر غالب کے مشکل شعر کی تشریح ہوچکیں غالبؔ بلائیں سب تمام ایک مرگ ناگہانی اور ہے عنوان اس شعر میں غالب نے اپنی زندگی کے کروب و تکلیف کو درد بھرے انداز میں بیان کیا ہے جن سے وہ دوچار رہے۔ ایک مرگ ناگہانی اور ہے کہہ رہے ہیں یعنی اچانک آنے والی موت رہ گئی ہے باقی تکلیفوں کے بعد۔ تمہید اردو ادب میں غالب کا مقام بہت بلند ہے جو کسی تعارف کا محتاج نہیں غالب اردو شاعری کے ساتھ ساتھ نثر لکھنے میں بھی مہارت رکھتے تھے۔غالب ہر دور میں غالب (بلند* رہے ہیں غالب کے اشعار میں خاص طور پر فلسفہ ؛دنیا کی بے ثباتی دنیا کے رنج و الم اور انسان کی بے بسی کا ذکر کیا گیا ہے پس منظر (Context) یہ شعر دیوان غالب کا ہےیہ غالب کی دکھ بھری زندگی اور مصائب و آلام کا آئینہ دار ہے۔غالب قرض اور شراب نوشی میں مبتلا رہتے تھے جس کی وجہ سے زندگی اجیرن ہو گئی تھی۔غالب کو انگریزی دور میں پنشن کے لیے بہت تگ ودوہ کرنی پڑی تھی۔جس کے لیے غالب نے مشکل سفر طے کئے۔اس شعر میں غالب نے سب تکلیفوں کے بعد موت کے آنے کا ذکر کیا ہے کہ ان تکلیفوں کے بعد بس اچانک موت کی دیر ہے۔ تشریح...