Skip to main content

Posts

Showing posts with the label tanhai poetry
ہم جی رہے ہیں، کوئی بہانہ کیے بغیر – جون ایلیا شاعری دل کا آئینہ ہوتی ہے، اور جون ایلیا جیسے شاعر اپنی سادہ لیکن گہری باتوں سے قاری کے دل کو چھو جاتے ہیں۔ آج کی اس بلاگ پوسٹ میں ان کے کچھ خاص اشعار شامل کیے جا رہے ہیں جنہیں آپ میری آواز میں نیچے ویڈیو میں بھی سن سکتے ہیں۔ یہ اشعار نہ صرف دل کی کیفیت بیان کرتے ہیں بلکہ ایک مکمل کیفیتِ تنہائی اور بےنیازی کو بھی پیش کرتے ہیں۔ اور جون محبوب کو اٹھتے بیٹھتے سوتے،جاگتے اپنے قریب محسوس کرتے ہیں اور ہر حال میں محبوب کا ساتھ چاہتے ہیں۔ ہم جی رہے ہیں، کوئی بہانہ کیے بغیر اس کے بغیر، اس کی تمنا کیے بغیر انبار اُس کا پردۂ حرمت بنا میاں  دیوار تک نہیں گری پردا کیے بغیر یاراں وہ جو ہے میرا مسیحائے جان و دل بے حد عزیز ہے مجھے اچھا کیے بغیر میں بستر خیال پہ لیٹا ہوں اس کے پاس صبح ازل سے کوئی تقاضا کیے بغیر اس کا ہے جو بھی کچھ ہے مرا اور میں مگر وہ مجھ کو چاہئے کوئی سودا کیے بغیر یہ زندگی جو ہے اسے معنیٰ بھی چاہیے وعدہ ہمیں قبول ہے ایفا کیے بغیر اے قاتلوں کے شہر بس اتنی ہی عرض ہے میں ہوں نہ قتل کوئی تماشا کیے بغیر مرشد کے جھوٹ کی تو سزا...