شعر تمھاری بے رخی اک دن ہماری جان لے لے گی قسم تم کو ذرا سوچو دستور وفا کیا ہے عنوان اس شعر میں محبوب کی بے رخی اور عدم توجہی کا ذکر کیا گیا ہے شاعر خوبصورتی سے محبوب کو وفا کی اہمیت اور اسکے تقاضے ،دستور بتا رہا ہے ۔شاعر بہزاد لکھنوی کا یہ بہترین شعر ہے۔ تشریح یہ شعر بہزاد لکھنوی کا ہے ۔شاعر اپنی محبت کی بے بسی مایوسی اور بے وفائی کا تذکرہ کر رہا ہے اور کہتا ہے کہ میرے محبوب نے اگر اسی طرح مجھے بے رخی دکھائی تو وہ عاشق کی جان بھی لے سکتی ہے محبوب کی مسلسل بے پروائی اسے بے جان کر رہی ہے۔اس کے بعد محبوب کو وفا کا دستور یاد دلاتا ہے کہ زمانے میں کیسے وفادار لوگ بستے ہیں اسے اس پر غور کرنا چاہیے اور عاشق کو مسلسل بے قدری اور بے رخی نہیں دکھانی چاہئے۔ بلکہ احساس اور نرم مزاجی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ فنی خوبیاں شعر کے پہلے مصرعے میں ایک درد کرب اور اذیت کا ذکر کیا گیا ہے کہ عاشق کس طرح محبوب کی بے رخی سے پریشان ہے۔ شعر میں جذبات بھرپور طریقے سے بیان کیے گئے ہیں۔ محبوب سے وفا اور نرمی کا بہترین انداز میں تقاضاکیا گیا ہے۔ پس منظر شعر میں جذباتی گہرائی کو بھرپور ا ند...