Skip to main content

غالب کا پیچیدہ شعر: 'مرغوب بتِ مشکل' کی مکمل تشریح، معنی اور فنی تجزیہ"





شعر


شمار سبحہ، "مرغوبِ بتِ مشکل" پسند آیا

تماشائے بہ یک کف بُردنِ صد دل، پسند آیا


مشکل الفاظ کے معانی


شمار سبحہ/وقت کا حساب رکھنا،گننا

مرغوب بت مشکل پسند/پسندیدہ مشکل پسند محبوب

بہ یک کف/ایک ہاتھ میں 

/بردن فارسی لفظ /لے کر جانا

صد دل/سودل


پس منظر


اس شعر کے پس منظر میں غالب کے عشق کا اظہار محبوب کی طرف سے یو کیا گیا ہے کہ محبوب سخت دل اور مشکل طبیعت کا مالک ہےغالب کے ہر شعر میں روایتی اردو کلاسیکل انداذ نظر آتا ہے۔
غالب کے کلام میں محبوب سے محبت کا اظہار جفا کے باوجود بھی ہم اکثر دیکھتے ہیں۔غالب عاشق کو عشق میں ثابت قدم رہنے کا درس دیتے ہیں۔


فنی خوبیاں


مرزا غالب کی شاعری کی ایک خاصیت تراکیب کا استعمال ہے جو ان کا خاصہ ہے غالب کی شاعری میں بہت سے الفاظ تراکیب بن گئے ہیں جن کو ذخیرہ الفاظ کے طور پر صاحب علم استعمال کرتے ہیں اس شعر میں فارسی تراکیب کا استعمال کیا گیا ہے "بُتِ مشکل"، "بہ یک کف"، "بُردن" جیسے فارسی الفاظ نے کلاسیکی حسن پیدا کیا۔
اور شعر کی خوبصورتی کو بڑھا دیا۔

تشریح 


مرزا غالب نے اپنی شاعری میں عشق وعاشقی،فلسفہ،تصوف اور انسانی نفسیات پر لکھا۔غالب کی طبیعت عالی حوصلہ تھی۔اس شعر میں غالب نے ایک ایسے عاشق کے بارے میں بات کی ہےجو اپنے محبوب کی جفاوسختی  اور نازک طبیعت کے ساتھ پسند کرتا ہے اسے محبوب کی جفا ادا محسوس ہوتی ہے۔
شاعر کے مطابق محبوب عشق اور مذہب دونوں کو ساتھ لے کر چلتا ہے یعنی مذہب کا پاس رکھتا ہے ۔


وہ محبوب کے دیے ہوئے دکھوں اور تکلیفوں خو خندہ پیشانی سے برداشت کرتا ہے۔اور دکھی نہیں ہوتا۔


محبوب کی ایسی طبیعت ہے جوعاشق کی بے قراری اور بے صبر کو گنتا ہے اور خوش ہوتا ہے۔

محبوب چاہتا ہے کہ  عاشق مجنوں کی 
طرح عشق کی شدت رکھے اور اس کے لیے بے قرار رہے۔اور اس کے عشق میں تاحیات جلتا رہے۔





اردو شاعری کی تشریح اور معنی
ہماری ویب سائٹ پر آپ کو اردو ادب کے عظیم شعرا جیسے کہ غالبؔ، اقبال، فیض، جون ایلیا، داغ دہلوی کی شاعری کی منفرد اور آسان تشریحات دستیاب ہیں۔ ہر نظم اور غزل کی گہری معنویت اور ادبی پہلوؤں کو سادہ انداز میں بیان کیا گیا ہے تاکہ قارئین اردو شاعری کی روح سے لطف اندوز ہو سکیں۔

اہم موضوعات:
اردو کلاسیکل شاعری کی تشریحات
فلسفہ خودی اور اقبال کی شاعری
فیض احمد فیض کا رومانوی کلام
جون ایلیا کی اداس شاعری
داغ دہلوی کا رومانوی انداز
مزید اردو ادب اور شاعری کے راز جاننے کے لیے ہماری مزید پوسٹس بھی ضرور پڑھیں۔ ہمیں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں تاکہ ہم آپ کے لیے مزید بہترین مواد پیش کر سکیں





Comments

Popular posts from this blog

"عشق کا بانکپن موت کے بعد بھی فیض احمد فیض کا انقلابی شعر"

  شعر کرو کج جبیں پہ سر کفن مرے قاتلوں کو گماں نہ ہو کہ غرور عشق کا بانکپن پس مرگ ہم نے بھلا دیا سیاق و سباق یہ فیض احمد فیض کا شعر ہےعشق پر اردو شاعری کا انقلابی رنگ اور انداز چڑھانا فیض کا کمال ہے۔فیض انقلابی اردو شاعری کرنے میں بہت معروف ہوئے ۔اردو ادب میں بہت سے شعراء نے عشق کو مزاحمت خودداری اور قربانی سے جوڑا ہے کہ عشق صرف اسی کا نام ہے۔فیض کا یہ شعر انقلابی اور علامتی شکل میں ہے۔فیض اپنی شاعری میں محبت اور انقلاب کو ساتھ لے کر چلے۔ فیض کی مشہور نظم "مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ"اس کی بہترین مثال ہے۔ جس کو گایا بھی گایا۔ اس شعر میں شاعر عشق کا غرور مرنے کے بعد بھی قائم رکھنا چاہتا ہے۔اور کہتا ہے کہ میرا کفن اس انداز میں باندھنا کہ میرا بانکپن اور وضع غرور دیکھنے والوں کو نظر آئے۔ مشکل الفاظ کے معنی  کج جبیں/اکڑی ہوئی پیشانی،یعنی غرور کی علامت سر کفن/کفن کا وہ حصہ جو سر پر باندھا جاتا ہے گماں/شک غرورعشق/اپنی محبت پر فخر بانکپن/وضع قطع،سرکشی پس مرگ/موت کے بعد تشریح  فیض احمد فیض کا یہ شعر عشق و محبت کے جذبات سے لبریز ہے جس میں شاعر مرتے دم تک محبوب کے عشق می...

حسن کی بجلی سی شوخی – میر تقی میر کے شعر کی تشریح

  مير تقی میر کا تعارف   میر تقی میر اصل نام میر محمد تقى اردو كے عظیم شاعر تھے۔ میر ان کا تخلص تھا۔ اردو شاعرى ميں مير تقى مير كا مقام بہت اونچا ہے ـ انہیں ناقدین و شعرائے متاخرین نے خدائے سخن کے خطاب سے نوازا۔ وہ اپنے زمانے كے ايكـ منفرد شاعر تھےـ   آپ كے متعلق اردو كے عظیم الشان شاعرمرزا غالب نے لکھا ہے۔r  ریختہ كے تمہی استاد نہیں ہو غالب  کہتے ہیں اگلے زمانے ميں كوئى مير بھی تھا    میر تقی میر، آگرہ میں 1723ء میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام محمد علی تھا لیکن علی متقی کے نام سے مشہور تھے۔ اور درویش گوشہ نشین تھے۔ میر نے ابتدائی تعلیم والد کے دوست سید امان للہ سے حاصل کی مگر مزید تعلیم سے پہلے جب میر ابھی نو برس کے تھے وہ چل بسے تب ان کے بعد ان کے والد نے خود تعلیم و تربیت شروع کی۔ مگر چند ماہ بعد ہی ان کا بھی انتقال ہو گیا۔ یہاں سے میر کی زندگی میں رنج و الم کے طویل باب کی ابتداء ہوئی۔  ان کے سوتیلے بھائی محمد حسن نے اچھا سلوک نہ کیا۔ تلاش معاش کی فکر میں دہلی پہنچے اور ایک نواب کے ہاں ملازم ہو گئے۔ مگر جب نواب موصوف ایک جنگ میں مارے...

غالب کا فلسفیانہ شعر: "میں عدم سے بھی پرے ہوں" کی تشریح، مفہوم، اور سیاق و سباق

  شعر:H1 میں عدم سے بھی پرے ہوں، ورنہ غافل! بارہا میری آهِ آتشیں سے بالِ عنقا جل گیا عرض کیجئے جوہرِ اندیشہ کی گرمی کہاں؟ کچھ خیال آیا تھا وحشت کا، کہ صحرا جل گیا سیاق و سباقH2 یہ مرزا غالب کا فلسفیانہ شعر ہے۔غالب کی شاعری کا مفہوم سمجھنا اکثر قاری کے لیے اتنا سہل نہیں ہوتا۔اس شعر میں غالب کا فلسفہ خودی اورانسانی شعور کی وسعت کو بیان کیا گیا ہے۔غالب اپنی ذات اور جذبات کی شدت کو اس طرح بیان کر رہے ہیں جیسےوہ انسان نہیں بلکہ عدم سے بھی آگے کی کوئی شے ہے۔ غالب نے اپنے جذبات کی شدت کو بیان کیا ہے کہتے ہیں کہ میری آہ ،پکار اس قدر بلند ہے کہ وہ عنقا یعنی کہ خیالی پرندے تک کے پر وں کو جلا کر راکھ کر دے۔یہ غالب کے علامتی اشعار میں سے ایک شعر ہے۔ مشکل الفاظ کے معنی H3 عدم/کسی چیز کا وجود نہ ہونا غافل/لاپرواہ کو کہتے ہیں  آتشیں/آگ سے بھری ہوئی چیز بال عنقا/اس سے مراد ایک فرضی پرندہ مطلب کوئی قیمتی چیز جوہر ا ندیشہ/سوچنے کی طاقت اور صلاحیت  وحشت/خوف ڈر تشریحH4 میں عدم سے بھی پرے ہوں، ورنہ غافل! بارہا میری آهِ آتشیں سے بالِ عنقا جل گیا مرزا غالب کی شاعری میں انسانی نفسیات،تصوف اور فل...