Skip to main content

Posts

Showing posts with the label Ghalib explanation
 Note: Please see the explanation in English and Roman Urdu at the end of the blog. Thank you. شعر دل نہیں تجھ کو دکھاتا ورنہ،داغوں کی بہار اس چراغاں کا کروں کیا،کارفرما جل گیا  عنوان  "درد کی روشنی: غالب کے داخلی جذبات کی جھلک" سیاق وسباق  یہ شعر مرزا غالب کا ہےاس شعر  میں غالب اپنے دل کی کیفیت خوبصورت الفاظ میں بیان کر رہے ہیں۔اس بلاگ میں ہم غالب کے شعر کی تشریح سمجھیں گے غالب کا غم آوردہ  دل  کی کیفیت اس شعر میں واضح ہے ۔  غالب کی شاعری کا مطلب سمجھنا اتنا سہل نہیں۔ مشکل اشعار کی تشریح کے لیے ہمارا بلاگ مددگار ثابت ہو  گا۔ غم،درد اور دل جیسے الفاظ اس شعر میں غالب کی شاعری میں علامتی زبان کا استعمال ہے جو غالب کے اکثر اشعار میں کثرت سے ملتا ہے۔ یہ شعر مرزا غالب کی زندگی کے اس دور کی عکاسی کررہا ہے جب غالب کرب تنہائی اور مالی پریشانیوں سے گزر رہے تھے۔غالب نے محبت اور زندگی کی تکالیف کو اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ مشکل الفاظ کے معنی  داغوں کی بہار:زخموں اور غموں کی کثرت چراغاں:خوشی کا منظر و کیفیت کار فرما:متحرک ،جو کوئی کام کر رہا ...
 بسکہ ہوں غالب اسیری میں بھی آتش زیر پا - مکمل تشریح، پس منظر اور فنی تجزیہ بسکہ ہوں غالبؔ اسیری میں بھی آتش زیر پا موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا مشکل الفاظ کے معنی  بسکہ،چونکہ/اس لیے اسیری،قید آتش زیر پا/قدموں کے نیچے آگ ہونا یعنی جوش موئے آتش دیدہ/آگ سے جلا ہوا بال  حلقہ/کڑی،زنجیر کا حلقہ یا ڈور پس منظر یہ شعر مرزا غالب کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے مرزا غالب کی زندگی میں رونما ہو نے واقعات کو واضح کرتا ہے مرزا غالب کی زندگی میں قیدوبند کے واقعات کم ہی تھے لیکن مالی حالات اور اولاد کا نہ ہونا ان سب مسائل کو غالب قیدوبند کا نام کہہ رہے ہیں مطلب  شاعر اپنے ماندہ حالات  عشق،زنجیر،اور قید کی زنجیروں کو قید کی علامت کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ فنی خوبیاں اس شعر میں شعری صنعت   صنعتِ مراعات النظیر کا استعمال کیا گیا ہے"آتش زیر پا" اور "موئے آتش دیدہ" میں لفظ "آتش" کا خوبصورت  استعمال  مراعات النظیر کی مثال ہے جس سے شعر با اثر معلوم ہوتا ہے۔ غالب کا تخیل بہت بلند ہے وہ زندگی کی قید کو اپنے تخلیق کردہ انداز میں بیان کر رہے ہیں جو قاری کے لئے نیا ...