Skip to main content

Posts

Showing posts with the label Urdu tashreeh

Wali Dakkhani Shayari Tashreeh | Mehboob ka Deedaar aur Ishq | Urdu Sufi Poetry

  شعر:H1 آرزوئے چشمۂ کوثر نئیں تشنہ لب ہوں شربتِ دیدار کا عاقبت کیا ہووے گا معلوم نئیں دل ہوا ہے مبتلا دل دار کا سیاق و سباقH2 یہ شعر ولی دکنی کا ہے۔ولی دکنی کا تعارف یہ ہے کہ ولی اردو زبان کے ابتدائی دور کے شاعر تھے۔ولی نے اپنی شاعری میں دکنی دورکے اردو ادب کو فروغ دیا۔ولی دکنی کی شاعری محبوب کی سراپا نگاری بیان کرنے میں مشہور ہے۔ ولی دکنی ولی دکنی کی خصوصیات کی بات کریں تو ولی دکنی بہترین الفاظ میں محبوب کےحسن کی تعریف کرتے تھے۔ ولی دکنی کی شاعری میں مجازی اور صوفیانہ رنگ نظر آتا ہے۔یہ شعر بھی اسی قسم کا ہے جس میں شاعر دنیاوی و اخروی خواہشات سے بالاتر ہو کر محبوب کے دیدارکو سب سے قیمتی اور اہم سمجھتا ہےیہ شعر میں ایک صوفیانہ رنگ ہے جو ولی نے پیش کیا ہے۔ مشکل الفاظ کے معنی H3 چشمۂ کوثر: جنت کا وہ مقدس چشمہ جس کا ذکر قرآن و حدیث میں آیا ہے تشنہ لب: پیاسا (جس کے ہونٹ پیاس سے خشک ہوں) شربتِ دیدار: محبوب کے دیدار کا لطف و سرور عاقبت: آخرت، انجام مبتلا: گرفتار، کسی شے میں ڈوبا ہوا تشریح H4 ولی دکنی اس شعر میں عشق کی انتہا اور شدت بیان کر رہے ہیں کہ کس طرح عشق میں مبتلا شخص دنیاومافیہا ...
 عنوان H1      Roman Urdu mein tashreeh blog k Last mein Dekhen "غالب کا فلسفۂ محبت: 'جذب دل کا شکوہ' کی تشریح اور سیاق و سباق" شعر H2 غلط ہے جذب دل کا شکوہ دیکھو جرم کس کا ہے نہ کھینچو گر تم اپنے کو کشاکش درمیاں کیوں ہو سیاق وسباق H3 یہ شعر مرزا غالب کا ہے۔ مرزا غالب اردو ادب کے منفرد اور عظیم شاعر ہیں جن کی    عظمت کو ہر زمانے نے تسلیم کیا ہے۔غالب نے اپنی شاعری میں فلسفہ عشق انسانی نفسیات اور تصوف کو گہرائی میں بیان کیا ہے۔غالب انسانی جذبات کو بہترین انداز میں پیش کرتے اگر آج  بھی کوئی ان کے اشعار پڑھتا پے تو اس پر وجد طاری ہو جاتا ہے۔ غالب کےاشعار میں عشق کا بیان محبت کی کشمکش اور جذب دل کے موضوع انتہائی گہرائی میں ملتے ہیں۔ غالب 19ویں صدی کے عظیم شاعر ہیں اس دور میں دہلی میں مغلیہ سلطنت زوال پذیر تھی اگر ہم غالب کے خطوط کا مطالعہ کریں تو اس وقت کے حالات ہمارے سامنے آجائیں۔بہر حال غالب نےاس وقت میں انسانی نفسیات عشق تصوف اور فلسفہ جیسے موضوعات کو اپنی شاعری میں بیان کیا۔ غالب کے اشعار کا مطلب ہم دیکھیں تو وہ صرف عشق اور فلسفہ کے ظاہری حالت کو ...
شعر   دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیں جیسے بچھڑے ہوئے کعبہ میں صنم آتے ہیں عنوان فیض احمد فیض کا درد و استعارے سے بھرپور شعر: "دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیں" — ایک فنی و  معنوی تجزیہ جو دل کو چھو جائے شعر کا پس منظر  یہ شعر فیض احمد فیض کے مجموعۂ کلام "دستِ صبا"  میں شامل ہے، جو ان کے رومانوی اور انقلابی ذہن کی عکاسی کرتا ہے فیض نے زیادہ تر انقلابی طرز کی شاعری کی آن کی شاعری میں ہم اکثر محبت اور انقلاب کو ایک ساتھ دیکھتے ہیں جیسا کہ ہم انکی یہ نظم پڑھیں  جس میں محبت اور انقلاب دونوں کا ذکر ہے  "مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ " فیض کی شاعری میں قید اور جلاوطنی کے دوران جو احساسات تھے ان کاظاہر ہونا دیکھتے ہیں۔ فنی خوبیاں  اس شعر میں تشبیہ کا استعمال بہت خوبصورتی سے کیا گیا  ہے "جیسے بچھڑے ہوئے کعبے میں صنم آتے ہیں " کعبہ اور صنم ان دو کا اکٹھے ذکر ایک گہرا معنی دے رہا ہے تکرار کیفیت پیدا کی گئی ہے جیسےبھولے ہوئے غم جو دل کو پھر سے گدگدا رہے ہیں  'پہلے مصرعے میں دل میں یوں تیرے بھولے ہوئے غم آتے ہیں میں شاعر کہت...