شعر ستائش گر ہے زاہد، اس قدر جس باغِ رضواں کا وہ اک گلدستہ ہے ہم بیخودوں کے طاقِ نسیاں کا مرزا غالب 1۔ مشکل الفاظ کے معنی لفظ یا ترکیب معنی ستائش گر تعریف کرنے والا، مدح کرنے والا زاہد عبادت گزار، دنیا سے بے رغبت اور پرہیزگار شخص اس قدر اس حد تک، اتنی زیادہ باغِ رضواں جنت کا باغ؛ رضوان جنت کے داروغہ فرشتے کا نام بھی ہے گلدستہ پھولوں کا مجموعہ، پھولوں کا دستہ بیخود اپنی ذات سے بے خبر، خود فراموش؛ صوفیانہ مفہوم میں اپنی ہستی سے بے نیاز شخص ہم بیخودوں ہم جیسے بے خود اور خود فراموش لوگوں طاق دیوار میں بنی ہوئی مخصوص جگہ، جس میں اشیا رکھی جاتی ہیں نِسیاں بھول جانا، فراموشی، نسیان طاقِ نسیاں فراموشی کا طاق؛ ایک ایسی علامتی جگہ جہاں بھولی بسری چیزیں رکھ دی جائیں اہم وضاحت: یہاں ’’باغِ رضواں‘‘ سے مراد جنت کا باغ ہے، جب کہ ’’طاقِ نسیاں‘‘ ایک استعاراتی ترکیب ہے۔ اسے صرف لغوی معنی میں لینے کے بجائے شعر کے مجموعی مفہوم میں سمجھنا ضروری ہے۔ 2۔ شعر کی سادہ تشریح اس شعر میں غالبؔ نے زاہد اور بیخود لوگوں کے نقطۂ نظر کو ایک دوسرے کے مقابل رکھ کر ایک لطیف خیال پیش کیا ہے۔ پہلے مصرعے میں شاعر کہتا ہ...
میر تقی میر کا تعارف خدائے سخن میر تقی میر اردو ادب کے عظیم شاعر تھےان کا تخلص میر تھا۔میر کو ناقدین اور شعراء نے خدائے سخن کا لقب دیا. مرزا غالب جیسے عظیم شاعر ان کی عظمت تسلیم کرتے تھے کہتے ہیں: ریختہ کےتمہی استاد نہیں ہو غالب کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا اس شعر سے ہم میر کی عظمت و بلندی کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں. میر کی پیدائش 1723 میں آگرہ میں ہوئی ان کے والد کا نام محمد علی تھا.لیکن میر کے والد علی متقی کے نام سے مشہور تھے۔اور درویش صفت انسان تھے۔میر کی ابتدائی تعلیم کا آغاز ان کے والد کے دوست سید امام اللہ سے ہوا وہ میر کو پڑھاتے تھے۔میر بہت ذہین بچوں میں شامل تھے۔لیکن میر ابھی نو برس کے تھے کہ استاد اس دار فانی سے کوچ کر گئے ان کے بعد میر کے والد نے تعلیم و تربیت شروع کی۔لیکم قسمت کی ستم ظریفی کے چند ماہ کے عرصے میں ان کا بھی انتقال ہو گیا. والد کے انتقال کے بعد میر تقی میر کی زندگی کے رنج والم اور مصائب کا آغاز ہوتا ہے۔ میر کا دور فتنہ و فساد کا دور تھا کہ کہیں بھی امن و امان کی صورتحال نہیں تھی تنگی و مشکلات برداشت کرنے کے بعد میر گوشی عافیت کی تلاش ...