Skip to main content

Posts

Showing posts with the label شعر و شاعری

غالب کا فلسفیانہ شعر: "میں عدم سے بھی پرے ہوں" کی تشریح، مفہوم، اور سیاق و سباق

  شعر:H1 میں عدم سے بھی پرے ہوں، ورنہ غافل! بارہا میری آهِ آتشیں سے بالِ عنقا جل گیا عرض کیجئے جوہرِ اندیشہ کی گرمی کہاں؟ کچھ خیال آیا تھا وحشت کا، کہ صحرا جل گیا سیاق و سباقH2 یہ مرزا غالب کا فلسفیانہ شعر ہے۔غالب کی شاعری کا مفہوم سمجھنا اکثر قاری کے لیے اتنا سہل نہیں ہوتا۔اس شعر میں غالب کا فلسفہ خودی اورانسانی شعور کی وسعت کو بیان کیا گیا ہے۔غالب اپنی ذات اور جذبات کی شدت کو اس طرح بیان کر رہے ہیں جیسےوہ انسان نہیں بلکہ عدم سے بھی آگے کی کوئی شے ہے۔ غالب نے اپنے جذبات کی شدت کو بیان کیا ہے کہتے ہیں کہ میری آہ ،پکار اس قدر بلند ہے کہ وہ عنقا یعنی کہ خیالی پرندے تک کے پر وں کو جلا کر راکھ کر دے۔یہ غالب کے علامتی اشعار میں سے ایک شعر ہے۔ مشکل الفاظ کے معنی H3 عدم/کسی چیز کا وجود نہ ہونا غافل/لاپرواہ کو کہتے ہیں  آتشیں/آگ سے بھری ہوئی چیز بال عنقا/اس سے مراد ایک فرضی پرندہ مطلب کوئی قیمتی چیز جوہر ا ندیشہ/سوچنے کی طاقت اور صلاحیت  وحشت/خوف ڈر تشریحH4 میں عدم سے بھی پرے ہوں، ورنہ غافل! بارہا میری آهِ آتشیں سے بالِ عنقا جل گیا مرزا غالب کی شاعری میں انسانی نفسیات،تصوف اور فل...
ہم جی رہے ہیں، کوئی بہانہ کیے بغیر – جون ایلیا شاعری دل کا آئینہ ہوتی ہے، اور جون ایلیا جیسے شاعر اپنی سادہ لیکن گہری باتوں سے قاری کے دل کو چھو جاتے ہیں۔ آج کی اس بلاگ پوسٹ میں ان کے کچھ خاص اشعار شامل کیے جا رہے ہیں جنہیں آپ میری آواز میں نیچے ویڈیو میں بھی سن سکتے ہیں۔ یہ اشعار نہ صرف دل کی کیفیت بیان کرتے ہیں بلکہ ایک مکمل کیفیتِ تنہائی اور بےنیازی کو بھی پیش کرتے ہیں۔ اور جون محبوب کو اٹھتے بیٹھتے سوتے،جاگتے اپنے قریب محسوس کرتے ہیں اور ہر حال میں محبوب کا ساتھ چاہتے ہیں۔ ہم جی رہے ہیں، کوئی بہانہ کیے بغیر اس کے بغیر، اس کی تمنا کیے بغیر انبار اُس کا پردۂ حرمت بنا میاں  دیوار تک نہیں گری پردا کیے بغیر یاراں وہ جو ہے میرا مسیحائے جان و دل بے حد عزیز ہے مجھے اچھا کیے بغیر میں بستر خیال پہ لیٹا ہوں اس کے پاس صبح ازل سے کوئی تقاضا کیے بغیر اس کا ہے جو بھی کچھ ہے مرا اور میں مگر وہ مجھ کو چاہئے کوئی سودا کیے بغیر یہ زندگی جو ہے اسے معنیٰ بھی چاہیے وعدہ ہمیں قبول ہے ایفا کیے بغیر اے قاتلوں کے شہر بس اتنی ہی عرض ہے میں ہوں نہ قتل کوئی تماشا کیے بغیر مرشد کے جھوٹ کی تو سزا...