Skip to main content


عنوان 


کیا ستم ہے۔۔۔ تخیل میں ہمیشہ رہنے والا چہرہ دھندلا گیا

شعر


کیا ستم ہے کہ اب تیری صورت
غور کرنے پہ یاد آتی ہے





شاعر کا تعارف


جون ایلیا بھارت میں اتر پردیش کے شہر امروہہ میں ایک علم دوست گھرانے میں پیدا ہوئے آپ کی پیدائش سن 1931 میں ہوئی۔ان کے والد کا نام سید شفیق حسن ایلیا تھاجو شاعر اور عالم تھے ابتدا ہی میں جون ایلیا کو علمی ماحول ملا۔
ان کے اور اپنے بارے میں جون ایلیا کا کہنا تھا "جس بیٹے کو اس کے انتہائی خیال پسند اور مثالیہ پرست باپ نے عملی زندگی گزارنے کا کوئی طریقہ نہ سکھایا ہو بلکہ یہ تلقین کی ہو کہ علم سب سے بڑی فضیلت ہے اور کتابیں سب سے بڑی دولت تو وہ رایگاں نہ جاتا تو کیا ہوتا۔" پاکستان کے نام ور صحافی، ماہر نفسیات رئیس امروہوی اور جنگ اخبار کے پہلے ایڈیٹر و فلسفی سید محمد تقی، جون ایلیا کے بھائی تھے، جب کہ مشھور خطاط و مصور صادقین، فلم ساز کمال امروہی ان کے چچا زاد بھائی تھے۔
جون ایلیا کے بچپن اور لڑک پن کے واقعات بہ زبان جون ایلیا ہیں مثلاً "اپنی ولادت کے تھوڑی دیر بعد چھت کو گھورتے ہوئے میں عجیب طرح ہنس پڑا جب میری خالاؤں نے یہ دیکھا تو ڈر کر کمرے سے باہر نکل گئیں۔ اس بے محل ہنسی کے بعد میں آج تک کھل کر نہیں ہنس سکا" یا "آٹھ برس کی عمر میں میں نے پہلا عشق کیا اور پہلا شعر کہا۔"
بحوالہ ریختہ

جون ایلیا کا مزاج بچپن سے ہی عاشقانہ واقع ہوا تھاجون تصور میں تخیل میں محبوبہ سے باتیں کیا کرتے تھے اور حیرانی کی بات یہ کہ بارہ سال کی عمر میں خیالی محبوبہ صوفُیہ کو خط  بھی لکھ ڈالا۔جون کو نصابی یعنی درسی کتابوں میں دلچسپی نہیں تھی امتحانات میں ناکام ہو جاتے تھےجب جوان ہوئے تو ان کو فلسفہ اور ہیئت میں دلچسپی پیدا ہوئی۔
جون کو جوانی میں ایک فارہہ نامی لڑکی سے عشق ہواجسے تمام عمر یاد کرتے رہےلیکن جون نے کبھی اس سے عشق کا اظہار نہ کیا۔جون کا عشق انا پرست تھاوہ عشق کے اظہار کو تذلیل سمجھتے تھے
حسن سے عرضِ شوق نہ کرنا حسن کو زک پہنچانا ہے / ہم نے عرضِ شوق نہ کر کے حسن کو زک پہنچائی ہے" اس طرح انھوں نے اپنے طور پر عشق کی تاریخ کی ان تمام حسیناؤں سے،ان کے عاشقوں کی طرف سے انتقام لیا جن کے دل ان حسیناؤں نے توڑے تھے۔ یہ اردو کی عشقیہ شاعری میں جون ایلیا کا پہلا کارنامہ ہے۔بحوالہ ریختہ 

جون بلا شبہ بڑے شاعر ہیں وہ اس لیے نہیں کہ ان کی شاعری ان تمام روایات پر پورا اترتی ہےجو قدیم شعری روایت ہے۔وہ بڑے شاعر اس لیے شمار ہوتے ہیں کیونکہ انہوں نے انسان کی نفسیاتی اور جذباتی کیفیت پر گہرے اشعار کہے ہیں کہ قاری محسوس کرتا ہے کہ جیسے اس کی جذباتی کیفیت بیان کی جارہی ہے اور وہ جون سے جڑتا چلا جاتا ہے 
کیفیت کو احساس کی شدت سے لبریز اور گہرائی میں بیان کرنا جون کا خاص وصف تھا ۔اس کی مثال ہمیں غالب اور میر کے ہاں ملتی ہے ۔۔۔







تشریح



یہ شعر جون ایلیا کا مشہور شعر پے ویسے تو جون ایلیا اپنے دور کے اور اس دور کے مشہور شاعر ہیں ان کے کئی  اشعار زبان زد عام ہیں۔شاعر اس شعر میں اپنے محبوب کی یاد کا المیہ بیان کر رہا ہے اور کہتا ہے کہ محبوب کا چہرہ جو ہمہ     وقت اس کی آنکھوں 
میں بستا تھا اس کے تخیل میں آباد رہتا تھا  اب اسی چہرے کو یاد کرنے کے لیے غور کرنا پڑتا ہے ذہن کو جھنجھوڑنا پڑتا ہے یہ ایک ستم ہے ستم اس طرح کہ شاعر افسوس اور المیے کا اظہار کر رہا ہے 
وقت کے ساتھ ساتھ انسان بھی بدل جاتے ہیں شاعر کہتا ہے کہ اے میرے محبوب اب میں تجھے یاد کروں تو تیری صورت فورا میری آنکھوں میں نہیں سماتی۔

شاعر اس شعر میں وقت کے ستم حالات کی ناسازی اور بے 
بسی کا اظہار کر رہا ہے۔



فنی خوبیاں

شعر کی زبان بہت سادہ ہے لیکن مطلب میں گہرائی لیے ہوئے ہے۔یہ شاعر کا فن ہوتا ہے کہ وہ سادہ الفاظ میں خیالوں کا جہاں اور مطلب کی گہرائی لے آتا ہے یہ اچھے شاعر کی پہچان ہے

غور کرنے پر یاد کرنے کا مصرع  قاری کے ذہن میں ایک مدھم 
تصویر بنا دیتا ہے۔


سوال

کیا آپ کے ساتھ زندگی میں کبھی ایسا واقعہ رونما ہوا ہےکہ کوئی خاص جو آپ کی زندگی میں آیا اور وقت کے ستم سے  آپ سے بچھڑ گیا ہو اور یاد غوروفکر پر یاد آتاہو۔

اپنے خیالات اور جذبات سوچ کا تبصرہ ہم سے کریں 

اردو شاعری کی تشریح اور معنی

ہماری ویب سائٹ پر آپ کو اردو ادب کے عظیم شعرا جیسے کہ غالبؔ، اقبال، فیض، جون ایلیا، داغ دہلوی کی شاعری کی منفرد اور آسان تشریحات دستیاب ہیں۔ ہر نظم اور غزل کی گہری معنویت اور ادبی پہلوؤں کو سادہ انداز میں بیان کیا گیا ہے تاکہ قارئین اردو شاعری کی روح سے لطف اندوز ہو سکیں۔

اہم موضوعات:

  • اردو کلاسیکل شاعری کی تشریحات
  • فلسفہ خودی اور اقبال کی شاعری
  • فیض احمد فیض کا رومانوی کلام
  • جون ایلیا کی اداس شاعری
  • داغ دہلوی کا رومانوی انداز

مزید اردو ادب اور شاعری کے راز جاننے کے لیے ہماری مزید پوسٹس بھی ضرور پڑھیں۔ ہمیں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں تاکہ ہم آپ کے لیے مزید بہترین مواد پیش کر سکیں۔

Comments

Popular posts from this blog

محبوب کی جدائی اور دل کی تپش — میر تقی میر کے ایک شعر کی جامع تشریح

    میر تقی میر کا تعارف خدائے سخن میر تقی میر اردو ادب کے عظیم شاعر تھےان کا تخلص میر تھا۔میر کو ناقدین اور شعراء نے خدائے سخن کا لقب دیا. مرزا غالب جیسے عظیم شاعر ان کی  عظمت تسلیم کرتے تھے کہتے ہیں: ریختہ کےتمہی استاد نہیں ہو غالب کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا اس شعر سے ہم میر کی عظمت و بلندی کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں. میر کی پیدائش 1723 میں آگرہ میں ہوئی ان کے والد کا نام محمد علی تھا.لیکن میر کے والد علی متقی کے نام سے مشہور تھے۔اور درویش صفت انسان تھے۔میر کی ابتدائی تعلیم کا آغاز ان کے والد کے دوست سید امام اللہ سے ہوا وہ میر کو پڑھاتے تھے۔میر بہت ذہین بچوں میں شامل تھے۔لیکن میر ابھی نو برس کے تھے کہ استاد اس دار فانی سے کوچ کر گئے ان کے بعد میر کے والد نے تعلیم و تربیت شروع کی۔لیکم قسمت کی ستم ظریفی کے چند ماہ کے عرصے میں ان کا بھی انتقال ہو گیا. والد کے انتقال کے بعد میر تقی میر کی زندگی کے رنج والم اور مصائب کا آغاز ہوتا ہے۔ میر کا دور فتنہ و فساد کا دور تھا کہ کہیں بھی امن و امان کی صورتحال نہیں تھی تنگی و مشکلات برداشت کرنے کے بعد میر گوشی عافیت ک...

"میر تقی میر کے اشعار کی تشریح: 'چمن میں گل نے جو کل دعویٰ جمال کیا' کا فنی و ادبی جائزہ"

  میر تقی میر کا تعارف خدائے سخن میر تقی میر اردو ادب کے عظیم شاعر تھےان کا تخلص میر تھا۔میر کو ناقدین اور شعراء نے خدائے سخن کا لقب دیا. مرزا غالب جیسے عظیم شاعر ان کی  عظمت تسلیم کرتے تھے کہتے ہیں: ریختہ کےتمہی استاد نہیں ہو غالب کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا اس شعر سے ہم میر کی عظمت و بلندی کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں. میر کی پیدائش 1723 میں آگرہ میں ہوئی ان کے والد کا نام محمد علی تھا.لیکن میر کے والد علی متقی کے نام سے مشہور تھے۔اور درویش صفت انسان تھے۔میر کی ابتدائی تعلیم کا آغاز ان کے والد کے دوست سید امام اللہ سے ہوا وہ میر کو پڑھاتے تھے۔میر بہت ذہین بچوں میں شامل تھے۔لیکن میر ابھی نو برس کے تھے کہ استاد اس دار فانی سے کوچ کر گئے ان کے بعد میر کے والد نے تعلیم و تربیت شروع کی۔لیکم قسمت کی ستم ظریفی کے چند ماہ کے عرصے میں ان کا بھی انتقال ہو گیا. والد کے انتقال کے بعد میر تقی میر کی زندگی کے رنج والم اور مصائب کا آغاز ہوتا ہے۔ میر کا دور فتنہ و فساد کا دور تھا کہ کہیں بھی امن و امان کی صورتحال نہیں تھی تنگی و مشکلات برداشت کرنے کے بعد میر گوشی عافیت کی تلاش ...

"عشق کا بانکپن موت کے بعد بھی فیض احمد فیض کا انقلابی شعر"

  شعر کرو کج جبیں پہ سر کفن مرے قاتلوں کو گماں نہ ہو کہ غرور عشق کا بانکپن پس مرگ ہم نے بھلا دیا سیاق و سباق یہ فیض احمد فیض کا شعر ہےعشق پر اردو شاعری کا انقلابی رنگ اور انداز چڑھانا فیض کا کمال ہے۔فیض انقلابی اردو شاعری کرنے میں بہت معروف ہوئے ۔اردو ادب میں بہت سے شعراء نے عشق کو مزاحمت خودداری اور قربانی سے جوڑا ہے کہ عشق صرف اسی کا نام ہے۔فیض کا یہ شعر انقلابی اور علامتی شکل میں ہے۔فیض اپنی شاعری میں محبت اور انقلاب کو ساتھ لے کر چلے۔ فیض کی مشہور نظم "مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ"اس کی بہترین مثال ہے۔ جس کو گایا بھی گایا۔ اس شعر میں شاعر عشق کا غرور مرنے کے بعد بھی قائم رکھنا چاہتا ہے۔اور کہتا ہے کہ میرا کفن اس انداز میں باندھنا کہ میرا بانکپن اور وضع غرور دیکھنے والوں کو نظر آئے۔ مشکل الفاظ کے معنی  کج جبیں/اکڑی ہوئی پیشانی،یعنی غرور کی علامت سر کفن/کفن کا وہ حصہ جو سر پر باندھا جاتا ہے گماں/شک غرورعشق/اپنی محبت پر فخر بانکپن/وضع قطع،سرکشی پس مرگ/موت کے بعد تشریح  فیض احمد فیض کا یہ شعر عشق و محبت کے جذبات سے لبریز ہے جس میں شاعر مرتے دم تک محبوب کے عشق می...