Skip to main content

 عنوان:


میر تقی میر کا فکری و جذباتی کرب: "مغاں مجھ مست بن پھر خندۂ ساغر نہ ہووے گا" کی تشریح


Unwan:Roman Urdu 


Mir Taqi Mir ka Fikri aur Jazbaati Karb: "Maghan Mujh Mast Ban Phir Khanda-e-Saaghar Na Howe Ga" ki Tashreeh




شعر:

مغاں مجھ مست بن پھر خندۂ ساغر نہ ہووے گا

مئے گلگوں کا شیشہ ہچکیاں لے لے کے رووے گا


شاعر: میر تقی میر


She’r (Roman Urdu):


Maghan mujh mast ban phir khanda-e-saaghar na howe ga

Mai-e-gulgoon ka sheesha hichkiyan le le ke roye ga


سیاق وسباق 


میر تقی میر کا شمار کلاسیکل شعراء 
میں ہوتا ہے میر کا دور 18 ویں صدی عیسوی کا دور ہے۔میر تقی میر کی شاعری میں ایک خاص کرب تکلیف اور آزمائشیں  نظر آتی ہیں جو انہوں نے زندگی میں برداشت کیں۔میر تقی میر کی غزلوں کے 6 دیوان ہیں اور رباعیات بھی میر نے لکھی۔ میر کو ان کے دور میں خدائے سخن کا خطاب دیا گیا۔

اس بلاگ میں ہم میر کے شعر 
مغاں مجھ مست بن پھر خندۂ ساغر نہ ہووے گا کی تشریح سمجھیں گے۔اس بلاگ میں ہم میر تقی میر کے شعر کا فکری پہلو ،ان کا کرب میر کی ر ندانہ شاعری کا انداز دیکھیں گے۔اردو کی غمگین شاعری میر کے ہاں کثرت سے ملتی ہے۔


Siaq-o-sabaq/ Roman Urdu


Mir Taqi Mir ka shumaar classical shora mein hota hai. Mir ka daur 18win sadi A.D. ka tha. Mir Taqi Mir ki shayari mein ek khaas karb, takleef aur aazmaishen nazar aati hain jo unhon ne zindagi mein bardaasht ki. Mir Taqi Mir ki ghazlon ke 6 deewan hain aur rubaiyat bhi Mir ne likhi hain. Mir ko unke daur mein "Khuda-e-Sukhan" ka khitaab diya gaya.

Is blog mein hum Mir ke sher:
"Maghan mujh mast ban phir khanda-e-saagar na ho ve ga"
ki tashreeh samjhein ge. Is blog mein hum Mir Taqi Mir ke sher ka fikri pehlu, un ka karb aur Mir ki rindana shayari ka andaaz dekhein ge. Urdu ki ghamgeen shayari Mir ke yahan kasrat se milti hai.


مشکل الفاظ کے معنی 


مغاں/شراب پلانے والامجازی طور پر مرشد یا پیر بھی کہہ سکتے ہیں 

مست/نشے میں دھت

خندہ ساغر/شراب کے پیالے کی ہنسی یا مسکراہٹ یعنی خوشی کی حالت

رووے گا/روئے گا

Mushkil Alfaz k Mani/Roman Urdu mein


Maghan – Sharab pilanay wala, majazi tor par murshid ya peer bhi keh sakte hain.

Mast – Nashe mein dhut, ya purjosh jazbati haalat.

Khanda-e-Saagar – Sharab ke pyaale ki hansi ya muskurahat, yaani khushi ki soorat.

Rovay ga – Roye ga, yaani aansuon mein doob jayega.


پس منظر 


میر تقی میر کا دور زوال کا دور تھا دہلی شہر برباد ہو چکا تھا ہر طرف افراتفری کا دور تھا میر کے ذاتی مصائب اور با رہا ہجرت نے میر کو ختم کو توڑ دیا میر کی جوان بیٹی اور بیوی کی وفات کا صدمہ بھی میر کو اٹھانا پڑا ان مصائب نے میر پر دکھوں کا پہاڑ تو ڑ دیا۔

اسی لیے میر کی شاعری میں رنج والم  سوزوگدازاور ایک طرح سے مایوسی کی فضا چھائی محسوس ہوتی ہے۔،

Pas Manz

r/Roman Urdu


Mir Taqi Mir ka daur zawal ka daur tha. Dilli sheher barbaad ho chuka tha. Har taraf afraat afree ka daur tha. Mir ke zaati masaib aur ba-ra-ha hijrat ne Mir ko andar se tor diya. Mir ko apni jawaan beti aur biwi ki wafat ka sadma bhi uthana pada. In masaib ne Mir par dukhon ka pahaad tod diya.

Isi liye Mir ki shayari mein ranj-o-alam, soz-o-gudaz aur ek tarah se mayoosi ki fiza chhaayi mehsoos hoti hai.


تشریح 

شاعر اس شعر میں کہتا ہے کہ اگر میں یعنی میر سرورومستی کی حالت میں نہ رہوں تو شراب کا پیالہ یعنی ساغر  بھی مسکرانا چھوڑ دےمیرا مست رہنا اور جھومنا شراب کی محفل کو سجاتا اور اسے خوش ومکمل کرتا ہے

میری مستی کے بغیر مئے خانہ نامکمل ہے

دوسرے شعر میں میر کہتے ہیں کہ لال رنگ کی شراب کی بوتل کا شیشہ بھی روئے گا اور ہچکیوں پر آجائے گا میرا موجود نہ ہونا اسے بھی غمگین کر دے گا ماحول میں اداسی ہی اداسی کا سماں ہو گا

یہ شعر اس بات کو واضح کرتا ہے کہ شاعر کا رنج والم مصائب اور زندگی کی آزمائشیں صرف اس کو ہی دکھی اور اداس نہیں کرتیں مئے خانے کا شراب کا پیالہ اور شیشہ بھی اس سے متاثر اور غمگین ہوتے ہیں۔

 شعر میں ہم رنج و الم اور مایوسی کے گہرے بادل دیکھتے ہیں جو میر کی تمام شاعری پر چھایا ہوا ہے۔


Tashreeh /Roman Urdu



Shaayar is sher mein kehta hai ke agar main yaani Mir suroor o masti ki haalat mein na rahun to sharaab ka pyaala yaani saagar bhi muskaraana chhor de. Mera mast rehna aur jhoomna sharaab ki mehfil ko sajata aur ise khush o mukammal karta hai.

Meri masti ke baghair mai'khana na-mukammal hai.

Dosray sher mein Mir kehte hain ke laal rang ki sharaab ki botal ka sheesha bhi roye ga aur hichkiyon par aa jaaye ga. Mera maujood na hona use bhi ghamgeen kar de ga. Mahol mein udaasi hi udaasi ka samaa ho ga.

Yeh sher is baat ko wazeh karta hai ke shaayar ka ranj-o-alam, masaib aur zindagi ki aazmaishen sirf usi ko hi dukhi aur udaas nahi kartin, balki mai'khane ka sharaab ka pyaala aur sheesha bhi us se mutaasir aur ghamgeen hotay hain.

Sher mein hum ranj-o-alam aur mayoosi ke gehre baadal dekhte hain jo Mir ki tamaam shayari par chhaya hua hai.







Comments

  1. Mughan mujh mast bin . Main k jo mast hon . Yani meray baghair
    .

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

محبوب کی جدائی اور دل کی تپش — میر تقی میر کے ایک شعر کی جامع تشریح

    میر تقی میر کا تعارف خدائے سخن میر تقی میر اردو ادب کے عظیم شاعر تھےان کا تخلص میر تھا۔میر کو ناقدین اور شعراء نے خدائے سخن کا لقب دیا. مرزا غالب جیسے عظیم شاعر ان کی  عظمت تسلیم کرتے تھے کہتے ہیں: ریختہ کےتمہی استاد نہیں ہو غالب کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا اس شعر سے ہم میر کی عظمت و بلندی کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں. میر کی پیدائش 1723 میں آگرہ میں ہوئی ان کے والد کا نام محمد علی تھا.لیکن میر کے والد علی متقی کے نام سے مشہور تھے۔اور درویش صفت انسان تھے۔میر کی ابتدائی تعلیم کا آغاز ان کے والد کے دوست سید امام اللہ سے ہوا وہ میر کو پڑھاتے تھے۔میر بہت ذہین بچوں میں شامل تھے۔لیکن میر ابھی نو برس کے تھے کہ استاد اس دار فانی سے کوچ کر گئے ان کے بعد میر کے والد نے تعلیم و تربیت شروع کی۔لیکم قسمت کی ستم ظریفی کے چند ماہ کے عرصے میں ان کا بھی انتقال ہو گیا. والد کے انتقال کے بعد میر تقی میر کی زندگی کے رنج والم اور مصائب کا آغاز ہوتا ہے۔ میر کا دور فتنہ و فساد کا دور تھا کہ کہیں بھی امن و امان کی صورتحال نہیں تھی تنگی و مشکلات برداشت کرنے کے بعد میر گوشی عافیت ک...

"میر تقی میر کے اشعار کی تشریح: 'چمن میں گل نے جو کل دعویٰ جمال کیا' کا فنی و ادبی جائزہ"

  میر تقی میر کا تعارف خدائے سخن میر تقی میر اردو ادب کے عظیم شاعر تھےان کا تخلص میر تھا۔میر کو ناقدین اور شعراء نے خدائے سخن کا لقب دیا. مرزا غالب جیسے عظیم شاعر ان کی  عظمت تسلیم کرتے تھے کہتے ہیں: ریختہ کےتمہی استاد نہیں ہو غالب کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا اس شعر سے ہم میر کی عظمت و بلندی کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں. میر کی پیدائش 1723 میں آگرہ میں ہوئی ان کے والد کا نام محمد علی تھا.لیکن میر کے والد علی متقی کے نام سے مشہور تھے۔اور درویش صفت انسان تھے۔میر کی ابتدائی تعلیم کا آغاز ان کے والد کے دوست سید امام اللہ سے ہوا وہ میر کو پڑھاتے تھے۔میر بہت ذہین بچوں میں شامل تھے۔لیکن میر ابھی نو برس کے تھے کہ استاد اس دار فانی سے کوچ کر گئے ان کے بعد میر کے والد نے تعلیم و تربیت شروع کی۔لیکم قسمت کی ستم ظریفی کے چند ماہ کے عرصے میں ان کا بھی انتقال ہو گیا. والد کے انتقال کے بعد میر تقی میر کی زندگی کے رنج والم اور مصائب کا آغاز ہوتا ہے۔ میر کا دور فتنہ و فساد کا دور تھا کہ کہیں بھی امن و امان کی صورتحال نہیں تھی تنگی و مشکلات برداشت کرنے کے بعد میر گوشی عافیت کی تلاش ...

"عشق کا بانکپن موت کے بعد بھی فیض احمد فیض کا انقلابی شعر"

  شعر کرو کج جبیں پہ سر کفن مرے قاتلوں کو گماں نہ ہو کہ غرور عشق کا بانکپن پس مرگ ہم نے بھلا دیا سیاق و سباق یہ فیض احمد فیض کا شعر ہےعشق پر اردو شاعری کا انقلابی رنگ اور انداز چڑھانا فیض کا کمال ہے۔فیض انقلابی اردو شاعری کرنے میں بہت معروف ہوئے ۔اردو ادب میں بہت سے شعراء نے عشق کو مزاحمت خودداری اور قربانی سے جوڑا ہے کہ عشق صرف اسی کا نام ہے۔فیض کا یہ شعر انقلابی اور علامتی شکل میں ہے۔فیض اپنی شاعری میں محبت اور انقلاب کو ساتھ لے کر چلے۔ فیض کی مشہور نظم "مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ"اس کی بہترین مثال ہے۔ جس کو گایا بھی گایا۔ اس شعر میں شاعر عشق کا غرور مرنے کے بعد بھی قائم رکھنا چاہتا ہے۔اور کہتا ہے کہ میرا کفن اس انداز میں باندھنا کہ میرا بانکپن اور وضع غرور دیکھنے والوں کو نظر آئے۔ مشکل الفاظ کے معنی  کج جبیں/اکڑی ہوئی پیشانی،یعنی غرور کی علامت سر کفن/کفن کا وہ حصہ جو سر پر باندھا جاتا ہے گماں/شک غرورعشق/اپنی محبت پر فخر بانکپن/وضع قطع،سرکشی پس مرگ/موت کے بعد تشریح  فیض احمد فیض کا یہ شعر عشق و محبت کے جذبات سے لبریز ہے جس میں شاعر مرتے دم تک محبوب کے عشق می...